کائبور اصل میں کیا ہے؟
بینک روزانہ ایک دوسرے سے رقم لیتے اور دیتے ہیں۔ کائبور اس لین دین کی پیشکش کی اوسط شرح ہے۔ یہ شرح مختلف مدتوں کے لیے الگ الگ جاری ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک اپنی ویب سائٹ پر تین مدتیں نمایاں کرتا ہے: سہ ماہی، ششماہی اور بارہ ماہ۔ فنانسنگ میں کون سی مدت کی کائبور استعمال ہو گی، یہ پروڈکٹ پر منحصر ہے۔
بولی اور پیشکش
آپ دیکھیں گے کہ ہر مدت کے سامنے دو اعداد ہوتے ہیں:
وہ شرح ہے جس پر بینک رقم لینے کو تیار ہیں۔
وہ شرح ہے جس پر بینک رقم دینے کو تیار ہیں۔
فنانسنگ کے معاہدوں میں عام طور پر پیشکش والی شرح استعمال ہوتی ہے۔ آپ کے معاہدے میں یہ بات لکھی ہوتی ہے۔
فنانسنگ کے معاہدوں میں عام طور پر پیشکش والی شرح استعمال ہوتی ہے۔ آپ کے معاہدے میں یہ بات لکھی ہوتی ہے۔
کائبور کی تازہ شرحیں
اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 13 اگست 2026ء تک کائبور کی شرحیں:
| مدت | بولی / پیشکش |
|---|---|
| سہ ماہی | بولی: 11.41 فیصد پیشکش: 11.66 فیصد |
| ششماہی | بولی: 11.51 فیصد پیشکش: 11.76 فیصد |
| بارہ ماہ | بولی: 11.61 فیصد پیشکش: 12.11 فیصد |
نوٹ: کائبور ہر کاروباری دن جاری ہوتی ہے۔ تعطیل یا ہفتہ اور اتوار کے بعد اوپر دی گئی تاریخ آج کی تاریخ سے مختلف ہو سکتی ہے۔ تازہ شرحوں کے لیے اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ دیکھیے۔
ذریعہ: sbp.org.pk
کائبور اور پالیسی ریٹ کا تعلق
اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی طے کرتی ہے۔ یہ ایک فیصلہ ہوتا ہے۔
مارکیٹ میں بینکوں کے اصل لین دین سے بنتی ہے۔ یہ ایک نتیجہ ہوتا ہے۔
بینکوں کے پاس اسٹیٹ بینک سے لین دین کا راستہ ہمیشہ موجود ہے۔ اس لیے کائبور عموماً پالیسی ریٹ کے آس پاس اور اسٹیٹ بینک کے شرح سود کوریڈور کے اندر رہتی ہے۔
کوریڈور کیا ہے؟
اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کے ساتھ دو حدیں مقرر کرتا ہے۔ اپنی اردو ویب سائٹ پر وہ اس دائرے کو “شرح سود کوریڈور” لکھتا ہے۔
اس پر بینک اسٹیٹ بینک سے راتوں رات رقم لے سکتے ہیں۔
اس پر بینک اپنی فالتو رقم اسٹیٹ بینک کے پاس رکھ سکتے ہیں۔
کائبور عموماً انہی دو حدوں کے درمیان گھومتی ہے۔
آسان اصول: پالیسی ریٹ کا رخ بدلے تو کائبور کا رخ بھی عموماً وہی ہوتا ہے۔
ایک فرق یاد رکھیے
پالیسی ریٹ سال میں چند بار، مقررہ اجلاسوں میں بدلتا ہے۔ کائبور ہر کاروباری دن حرکت کرتی ہے۔ یہ اجلاس سے پہلے ہی مارکیٹ کی توقعات کے ساتھ سرکنا شروع کر دیتی ہے۔
مختلف مدتوں کی کائبور مختلف کیوں ہوتی ہے؟
آپ نے دیکھا ہو گا کہ بارہ ماہ کی کائبور عموماً سہ ماہی سے زیادہ ہوتی ہے۔ وجہ سادہ ہے۔ رقم جتنی لمبی مدت کے لیے دی جائے، غیر یقینی اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔
اس عرصے میں شرحیں اور حالات کیا رہیں گے، یہ کہنا مشکل ہوتا ہے۔ اس اضافی غیر یقینی کا معاوضہ شرح میں شامل ہو جاتا ہے۔
اس کا ایک عملی مطلب بھی ہے۔ اگر آپ کے معاہدے میں تین ماہ کی کائبور ہو تو آپ کی شرح جلدی جلدی بدلے گی۔ یعنی مارکیٹ کی حرکت آپ تک تیزی سے پہنچے گی، خواہ اوپر کی طرف ہو یا نیچے کی طرف۔
چھ ماہ یا بارہ ماہ کی کائبور والے معاہدے میں شرح کم بار بدلتی ہے۔ اس سے قسط میں استحکام زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن شرحیں گرنے کا فائدہ بھی دیر سے ملتا ہے۔
کوئی ایک انتخاب ہر شخص کے لیے بہتر نہیں۔ اگر آپ قسط میں استحکام چاہتے ہیں تو لمبی مدت کی کائبور موزوں ہو سکتی ہے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ شرحیں گرنے والی ہیں تو مختصر مدت جلد فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ یہ بات فنانسنگ لینے سے پہلے برانچ میں ضرور پوچھیے۔
آپ کی قسط سے کائبور کا تعلق
الائیڈ بینک میں یہ فنانسنگ بارہ ماہ کی کائبور جمع بینک کے مارجن پر دی جاتی ہے:
روایتی فنانسنگ میں اس مجموعی شرح کو مارک اپ کی شرح کہا جاتا ہے۔
وہ حصہ جو بینک اپنی لاگت اور خطرے کے حساب سے مقرر کرتا ہے۔ یہ عموماً پوری مدت کے لیے طے رہتا ہے۔
حرکت کائبور والے حصے میں ہوتی ہے۔
ری پرائسنگ
اسے ری پرائسنگ کہا جاتا ہے: مقررہ وقفے پر آپ کی شرح تازہ کائبور کے حساب سے دوبارہ طے ہوتی ہے۔
مثلاً فرض کیجیے معاہدے میں چھ ماہ کی کائبور استعمال ہوتی ہے۔ پھر ہر چھ ماہ بعد نئی کائبور لے کر آپ کی شرح اور قسط دوبارہ حساب کی جاتی ہے۔
ایک فرضی مثال
اصول سمجھنے کے لیے فرض کیجیے آپ کے معاہدے میں شرح “چھ ماہ کائبور جمع 3 فیصد” ہے۔ ری پرائسنگ کے دن چھ ماہ کی کائبور 11.76 فیصد ہو تو:
| حصہ | شرح |
|---|---|
| چھ ماہ کی کائبور (ری پرائسنگ کے دن) | 11.76 فیصد |
| مارجن (فرضی) | 3 فیصد |
| آپ کی شرح | 14.76 فیصد |
اگلی ری پرائسنگ پر اگر کائبور آدھا فیصد کم ہو جائے تو شرح بھی تقریباً اتنی ہی کم ہو گی۔
نوٹ: یہ صرف حساب سمجھانے کی مثال ہے۔ 3 فیصد کا مارجن کوئی حقیقی پیشکش نہیں۔ اپنی اصل شرح اور مارجن کے لیے اپنا معاہدہ یا برانچ دیکھیے۔
اپنے معاہدے میں یہ تین چیزیں ضرور دیکھیں
کون سی مدت کی کائبور استعمال ہوتی ہے۔ ہر مدت کی شرح مختلف ہوتی ہے۔
بینک کا مارجن کتنا ہے۔ یہی وہ حصہ ہے جس پر بات ہو سکتی ہے۔ کائبور کسی بینک کے اختیار میں نہیں۔
ری پرائسنگ کب کب ہوتی ہے، اور کیا کوئی بالائی یا زیریں حد مقرر ہے۔
کچھ معاہدوں میں کم از کم شرح کی حد ہوتی ہے۔ ایسے میں کائبور بہت گر جائے تب بھی شرح ایک سطح سے نیچے نہیں آتی۔
یہ تینوں باتیں فنانسنگ لینے سے پہلے پوچھ لینا بعد کی حیرانی سے بچاتا ہے۔
الائیڈ بینک کی فنانسنگ مصنوعات کی تفصیل کے لیے: الائیڈ بینک فنانسنگ مصنوعات
ڈپازٹ رکھنے والوں کے لیے کائبور کا مطلب
کائبور براہ راست ڈپازٹ کی شرح نہیں ہے۔ لیکن جس ماحول میں کائبور اونچی ہوتی ہے، اس میں ڈپازٹس پر شرحِ منافع بھی عموماً بہتر ہوتی ہے۔
ایک باریک فرق
آپ کے سیونگ اکاؤنٹ کی کم از کم شرحِ منافع کا ضابطہ کائبور سے نہیں جڑا۔ یہ اسٹیٹ بینک کے فلور ریٹ سے جڑا ہے۔
آپ کی فنانسنگ کی قسط سے جڑی ہے۔
آپ کی بچت کے کم از کم منافع سے جڑا ہے۔
اطلاق: یکم اگست 2026ء سے یہ ضابطہ انفرادی کھاتہ داروں پر لاگو ہے۔ شرط یہ ہے کہ ماہانہ اوسط بیلنس ایک کروڑ روپے تک ہو۔
دونوں ایک ہی پالیسی ریٹ کے ماحول میں چلتی ہیں، لیکن راستے الگ ہیں۔
ڈپازٹ پر اثر کی تفصیل الگ گائیڈ میں ہے: پالیسی ریٹ اور ڈپازٹ پر منافع
آپ کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟
کائبور کوئی پراسرار چیز نہیں: یہ بینکوں کے آپس کے لین دین کی روزانہ شرح ہے۔ یہی شرح آپ کی متغیر فنانسنگ کی قسط طے کرتی ہے۔
فنانسنگ لینے سے پہلے کائبور کا موجودہ ماحول سمجھ لیجیے۔ اپنے معاہدے کی ری پرائسنگ شرائط بھی دیکھ لیجیے۔ اس سے بعد کی حیرانی سے بچت ہوتی ہے۔
الائیڈ بینک کی فنانسنگ مصنوعات دیکھیے یا قریبی برانچ سے اپنی موجودہ فنانسنگ کی شرائط پر بات کیجیے۔
اعلانِ دستبرداری: یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے۔ پالیسی ریٹ، کائبور اور شرحِ منافع وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں؛ موجودہ اقدار اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور الائیڈ بینک کی ویب سائٹس پر دیکھیں۔ الائیڈ بینک کی مصنوعات کی شرائط اور چارجز موجودہ شیڈول آف چارجز کے مطابق ہوتے ہیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
کائبور کا پورا نام کیا ہے؟
کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ: وہ شرح جس پر بینک ایک دوسرے کو رقم دینے کی پیشکش کرتے ہیں۔
آج کائبور کتنی ہے؟
اس صفحے کے اوپر دیا گیا حصہ دیکھیے، جو اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے اپ ڈیٹ ہوتا ہے۔ 13 اگست 2026ء تک سہ ماہی کائبور 11.41 / 11.66 فیصد تھی۔
کائبور کہاں سے دیکھی جا سکتی ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اپنی ویب سائٹ پر کائبور کے اعداد و شمار شائع کرتا ہے۔
بولی اور پیشکش میں کیا فرق ہے؟
بولی وہ شرح ہے جس پر بینک رقم لینے کو تیار ہیں؛ پیشکش وہ شرح ہے جس پر دینے کو تیار ہیں۔ فنانسنگ میں عموماً پیشکش والی شرح استعمال ہوتی ہے۔
کائبور اور پالیسی ریٹ میں کیا فرق ہے؟
پالیسی ریٹ زری پالیسی کمیٹی کا فیصلہ ہے جو مقررہ اجلاسوں میں بدلتا ہے؛ کائبور مارکیٹ کی روزانہ شرح ہے جو عموماً پالیسی ریٹ کے قریب رہتی ہے۔
میری فنانسنگ میں کائبور کیوں لکھی ہے؟
کیونکہ متغیر شرح والی فنانسنگ کی قیمت عموماً کائبور جمع مارجن کے اصول پر طے ہوتی ہے اور مقررہ مدت پر تازہ کائبور کے مطابق دوبارہ طے ہوتی ہے۔
کیا کائبور بڑھنے سے میری قسط فوراً بڑھ جاتی ہے؟
فوراً نہیں؛ آپ کے معاہدے کی اگلی ری پرائسنگ پر اثر آتا ہے۔ مدت اور شرائط معاہدے میں لکھی ہوتی ہیں۔
ری پرائسنگ کا مطلب کیا ہے؟
مقررہ وقفے پر آپ کی شرح تازہ کائبور کے حساب سے دوبارہ طے ہونا۔ وقفہ عموماً معاہدے میں استعمال ہونے والی کائبور کی مدت کے برابر ہوتا ہے۔
کیا کائبور میرے سیونگ اکاؤنٹ کے منافع کو بھی طے کرتی ہے؟
نہیں۔ سیونگ اکاؤنٹ کی کم از کم شرحِ منافع کا ضابطہ اسٹیٹ بینک کے فلور ریٹ سے جڑا ہے، کائبور سے نہیں۔ یکم اگست 2026ء سے یہ ضابطہ ایک کروڑ روپے تک ماہانہ اوسط بیلنس والے انفرادی کھاتہ داروں پر لاگو ہے۔
